بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایرانی خبر ایجنسی اسنا (ISNA) کی رپورٹ کے مطابق، 'مارک زندی' کے پیش کردہ اس اندازے کے مطابق، توانائی کی قیمتوں میں چھلانگ اس مالی بوجھ کا سب سے بڑا حصہ ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے، گھروں کو گرم رکھنے کے بلوں میں اضافے اور تجارتی سامان کی نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ہر امریکی خاندان کو تقریبا 1100 ڈالر اضافی رقم خرچ کرنا پڑی ہے۔
اس رپورٹ کی بنیاد پر، عام پٹرول کی قیمت جنگ سے پہلے 3 ڈالر فی گیلن تھی جو 4.37 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے؛ ڈیزل کی قیمت 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے اور جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ ہؤا ہے۔
زندی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اشارہ کیا کہ موجودہ قیمتوں کے ساتھ، ہفتہ وار توانائی کی لاگت اب بھی تقریباً 50 ڈالر فی گھرانہ بڑھ رہی ہے۔
اس ماہر معاشیات کے مطابق بلند شرح سود نے بھی فی گھرانہ 540 ڈالر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔
جنگ کی وجہ سے افراط زر نے امریکی مرکزی بینک "فیڈرل ریزرو" کو قرض لینے کے اخراجات بڑھانے پر مجبور کیا اور فکسڈ مارگیج کی شرح کو ـ جو جنگ سے پہلے 6 فیصد سے کم تھی ـ تقریباً 7.5 فیصد تک پہنچا دیا؛ اس کا مطلب ہے کہ واشنگٹن کی مہم جویانہ خارجہ پالیسی نے براہ راست امریکی شہریوں کے دسترخوان اور رہائش پر دباؤ ڈالا ہے۔
'مارک زندی' کے جائزے کے مطابق، براہ راست فوجی آپریشن کی لاگت کے مد میں ہر گھرانے پر 360 ڈالر کا بوجھ پڑا ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے؛ جنگی اخراجات کا یہ تخمینہ پینٹاگون کے اعلان کردہ اخراجات اور امریکی ٹیکس دہندگان کی جیب سے فراہم کردہ رقم کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔
زندی کے مطابق مجموعی طور پر، جنگ سے متعلق یہ اخراجات نے گذشتہ آٹھ مہینوں میں امریکی اوسط گھرانے کی آمدنی میں اضافے کا تقریباً نصف حصہ ہڑپ کر لیا ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح طور پر عیاں کرتے ہیں کہ خطے میں تناؤ پیدا کرنا اور فوجی مہم جوئی نہ صرف سلامتی اور استحکام نہیں لائی، بلکہ براہ راست امریکی عوام کی معیشت کو بھی نشانہ بنایا اور اس ملک کی معیشت پر بھاری لاگت مسلط کر دی؛ ایسی لاگت جو بالآخر امریکی شہریوں کو ادا کرنا پڑتی ہے، نہ کہ ٹرمپ کے اردگرد بیٹھے ان سیاستدانوں کو، جنہوں نے اس کا آغاز کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون از: روزنامہ کیہان
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ